کیا سے کیا ہوگیا دیکھتے دیکھتے. تحریر: ایس ایم موسوی

ایک طرف گلگت بلتستان میں انتخابی تیاریاں زور شور سے جاری ہے تو دوسری طرف وفاقی جماعت کی جانب سے ٹکٹ کے اعلان میں تاخیر کے باعث عوام اور کارکنان خصوصا ان کے امیدواران شدید ذہنی اذیت میں مبتلاء تھے بلآخر 28 ستمبر کو شام پانچ بجے پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے ٹکٹوں کی تقسیم کا اعلان ہوگیا۔ مگر سب کچھ توقعات سے ہٹ کر ہوا اگر دیکھا جائے تو ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیمات کے بعد ہم یہ کہنے پر حق بجانب ہونگے کہ تحریک انصاف میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے چونکہ انہوں نے بعض حلقوں میں اپنے نظریاتی کارکنوں کو قربانی کا بکرا بنا کر پیراشوٹرز اور لوٹوں کو نوازا ہے۔ جبکہ اپنے تمام امیدواروں سے ٹکٹ فارم کا 75 ہزار فی کس وصول کئے جس کے بعد انٹرویو کے لیے اسلام آباد بلایا گیا، بیان حلفی کے ذریعے ان کی تذلیل کی گئی۔ ان سب کے باجود ٹکٹ سے بھی انہیں محروم کردیا۔ خصوصا حلقہ دو میں ذاکر ایڈوکیٹ جس نے پی ٹی آئی کا علم اٹھاکر گھر گھر عمران خان کا پیغام پہنچایا تھا اس کو مایوس کرنے پر مجھے ذاتی طور پر بہت دکھ ہوا۔ البتہ میں سمجھتا ہوں پی ٹی آئی نے ایک زبردست چال چلی ہے چونکہ نون لیگ اور پی پی کے دور حکومت میں ہم نے دیکھا مذہبی جماعتوں نے بہت زیادہ مزاحمت کی اور حکومت کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا رہا۔ حکومتی پالیسی کے خلاف احتجاجات میں مجلس وحدت مسلمین صف اول میں رہے لیکن عمران نے اپنے حکومت بنانے سے پہلے ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری صاحب کو اعتماد میں لیکر اس جماعت کو اپنے ساتھ ملا دیا اور حکومتی اتحادی جماعت کا نام دیا تاکہ کوئی کسی قسم کی مزاحمت نہ کرسکے اب یہی اثر گلگت بلتستان میں بھی پڑا ہے۔ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی سہ فریقی اتحاد بنانے کی کوشش میں ہے تاہم مجلس وحدت کے ساتھ ان کا سیٹ ایڈجیسمنٹ ہوگیا مگر اسلامی تحریک والوں نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا اس لیے پی ٹی آئی کی جانب سے دو حلقوں میں ٹکٹوں کا اعلان بھی نہیں کیا ہے ممکن ہے ایک دو دنوں میں اسلامی تحریک کے ساتھ معاملات طے ہوجائے اور یہ دو سیٹیں ان کے لیے بخشیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو مذہبی جماعتوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ترین ضروریات میں سے ہے یہ اتحاد اگر بن جائے تو انتہائی خوش آئند بات ہوگی لیکن اس اتحاد کی آڑ میں مذہبی جماعتوں سے زیادہ پی ٹی آئی کو فائدہ ہوگا چونکہ گلگت بلتستان میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمتی تحریکوں میں یہی دو جماعتیں خصوصا آغا علی رضوی صاحب ہمیشہ صف اول میں رہے ہیں ٹیکس ایشو ہو یا گندم ایشو روڈ کا معاملہ ہو یا بجلی کا مسئلہ، خالصہ سرکار کا مسئلہ ہویا پھر کوئی اور ہر چھوٹے بڑے معاملات پر آغا علی صاحب نے صوبائی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا اسی وجہ سے اب پاکستان تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں بھی اپنی حکومت قائم کرنے اور آغا علی کی مزاحمتی تحریک سے بچنے کے لیے آغا کے کہنے پر دو حلقوں میں اپنا نمائندہ ہی کھڑا نہیں کیا تاکہ آغا صاحب کو اعتماد میں رکھ کر حکومت سکون سے اپنا کام کرسکے۔شائد یہ لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہوگئے ہیں کہ اب آغا علی صاحب پہلے کی طرح حکومتی غلط پالیسیوں پر کھل سامنے نہیں آئیں گے بلکہ اتحادی جماعت ہونے کے ناطے خاموشی اختیار کریں گے۔ جبکہ آغا علی صاحب نے گذشتہ دنوں پارٹی کے مشاورتی اجلاس میں اپنے موقف واضح کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ یہ اتحاد مزاحمتی تحریکوں پر کوئی اثرانداز نہیں ہوسکتے۔ اگر جی بی عوام کے حقوق کی حصول میں کوئی رکاوٹ یا تاخیر کرے تو پی ٹی آئی بھول جائیگی کہ ہم کوئی اتحادی جماعت ہے۔ہمیں امید بھی ہے کہ آغا علی صاحب کسی مصلحت کا شکار ہوئے بغیر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ چونکہ انہوں نے پچھلی دفعہ بھاری اکثریت سے جیتی ہوئی سیٹ کو لات مار کر یہ ثابت کردیا کہ ہے ہمارے لیے سب سے بڑھ کر عوامی حقوق اہم ہے۔ دوسری جانب مجلس وحدت اور تحریک انصاف کے مشترکہ امیدوار جناب کاظم میثم صاحب کے لیے بھی سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ انہیں پہلے تو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے پارٹی ٹکٹ کے امیدوار اور پارٹی سے بغاوت کرنے والوں کا مقابلہ تھا اب جبکہ پی ٹی آئی کے اس فیصلے کے بعد ان کے ناراض کارکنان بھی سیاسی مخالفین کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے تو ان سب کا میثم کے ساتھ ٹکرا مقابلہ ہوگا اس سے ایک مشکل صورت حال پیدا ہوگی جس کا نتیجہ کیا نکلے گا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ایک لحاظ سے یہ فیصلہ حلقہ دو کی حق میں بہترین فیصلہ ہے چونکہ لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ حلقہ دو میں ہمیشہ سے مذہبی جماعتیں برسر اقتدار رہے ہیں اور مذہبی جماعتیں ہر وقت اپوزیشن میں رہی اس لیے حلقے میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں ہوسکی یعنی لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات تھی کہ ترقی کے لیے حکمران جماعت کے ساتھ رہنا ضروری ہے شائد مجلس وحدت مسلمین والوں نے اس لیے اس فیصلے کو قبول کیا ہے تاکہ لوگوں کی یہ خواہش بھی پوری ہوجائے اب ہم نے دیکھنا ہے حکمران جماعت والے کونسا تیر ماریگا۔ عوام کی جانب سے بھی اکثر نمائندوں کو اسی شرط پہ قبول کیا تھا کہ وہ وفاقی جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے وفاقی جماعت کی ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں عوام ان کے ساتھ نہیں دیں گے چونکہ یہ لوگ وفاقی جماعت کو ترقی کا ضامن اور راہ نجات سمجھتے ہیں اس لیے کچھ نمائندوں نے عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے وفاقی ٹکٹ کی خاطر بہت تگ و دو کیا، در در کی ٹھوکریں کھائی، ذلت و رسوائی بھی برداشت کئے مگر ہر جانب سے انہیں مایوسی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوسکا اور آج حکمران جماعت کے ساتھ دینے والوں کے خلاف یہی لوگ سب سے زیادہ واویلا مچاتے ہوئے نظر آرہے ہیں کیونکہ یہ طبقہ اپنی ناکامیوں پر بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اس فیصلے سے خود پارٹی کو جزوی نقصانات کے واضح امکانات کے باوجود انہوں نے اتنا بڑا فیصلہ کردیا اس بات سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی نظر میں مجلس وحدت کی کتنی اہمیت ہے اگرچہ یہ فیصلہ ایم ڈبلیو ایم کے حق میں کم اور پی ٹی آئی کے حق میں زیادہ ہے چونکہ ان کی اپنی مفاد شامل نہ ہوتی تو کبھی اپنے نظریارتی کارکنوں کو دیوار سے نہ لگاتے۔ یہاں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے والی مثال ہے۔ انہیں پارٹی ساکھ کو بچانے کے لیے ایک دو کارکنوں کو قربان کرنے کا فیصلہ زیادہ آسان لگا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو گلگت سے سید جعفر شاہ اور بلتستان سے گورنر کا حلقہ ہی ان کے ہاتھ سے نکلنا تھا اس لیے انہوں نے انتہائی سمجھدای سے یہ فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد جی بی کے مختلف حلقوں سے پی ٹی آئی کے کئی امیدواروں نے آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا جبکہ چلاس میں کارکنان بے قابو ہوکر پی ٹی آئی کا جھنڈا بھی نذر آتش کردیا ہے اور حلقہ دو سکردو میں بھی پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اطلاع ہے ذاکر ایڈوکیٹ جو اپنے آپ کو عمران خان کا سپاہی اور پی ٹی آئی کا نظریاتی کارکن کہلاتے تھے انہوں نے بھی اپنے گھر کی چھت سے پی ٹی آئی آئی کا پرچم ہٹادیا اور وہ ورکنگ الآئنس کے نام پر دیگر راہنماوں سے ملاقاتوں میں بھی مصروف ہوگئے ہیں۔ ان کی اس جذباتی فیصلے سے پارٹی پر تو کوئی اثر نہیں پڑیگا لیکن ایڈوکیٹ ذاکر خود کے لیے شائد مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ اگر وہ پارٹی فیصلے کو قبول کرتا ہے جوکہ پہلے انہوں نے کئی انٹرویوز میں اس بات کا اعلان بھی کیا تھا کہ میں پارٹی کا نظریاتی کارکن ہوں پارٹی جو بھی فیصلہ کرے مجھے قبول ہوگا اگر وہ اپنا کیا وعدہ وفا کریں گے تو شائد اس کا کوئی صلہ مل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں