میرے کالم پڑھنے والو .. تحریر: افتخار چودھری

حال جیسا بھی سہی، سانس تو جاری ہے ابھی
دیکھ! زندہ ہیں ترے عشق میں ہارے ہوئے لوگ

کسی اشارے پر رکیں کسی بازار میں گاڑی میں بیٹھے ہوئے ہوں ٹک ٹک کی آواز آئے گی کوئی بچہ ہو گا کوئی خاتون ہو گی منہ ایسا بنائیں گے کہ آپ کو ترس آ جائے گا۔یہ لوگ پیشہ ور بھکاری ہیں۔میری اور آپ کی زندگی ایسے لوگوں کے ساتھ گزر ی ہے ایک سروے کے مطابق لاہور راولپنڈی اسلام آباد کراچی ملتان اور فیصل آباد کے بھکاری اوسط چار سے پانچ ہزار روپے روزانہ کماتے ہیں۔کئی بار ایسا ہوا کہ بیگم نے کہا چلو گھر میں تمہیں کام دیتی ہوں ایک بار تو جواب ملا آپ مہینے کا جو دیں گی میں ایک ہفتے میں اتنا کما لوں گی آج کالم لکھنے کی بات چل نکلی حاجی عمران نے کہا چودھری صاحب ان پیشہ ور بھکاریوں پر لکھیں عزیز اللہ ملنگی نے دبئی سے لکھا کہ ایف آئی سے کہیں کہ وزٹ ویزے پر لوگوں کو اس وقت تک جہاز پر نہ چڑھائیں جب تک ان کے پاس دو ہزار درہم نہ ہو۔پاکستان میں تو آپ کو اتنی خفت نہیں ہوتی لیکن باہر کے ملکوں میں جب آپ جاتے ہیں کسی اشارے پر کھڑے پاکستانی جب مانگتے ہیں تو آپ کا جی چاہتا ہے کہ زمین پھٹے اور اس میں دھنس جائیں میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا میں پاکستان کی خوبصورتی اور اس کی لاکھ خوبیوں پر سعودی دوستوں کو درس دیتا تو آنے والے اشارے پر کوئی نہ کوئی پاکستانی عورت ہاتھ پھیلائے نظر آتی۔کسی زمانے میں طوطے بیچنے والے کھڑے نظر آتے وہاں کی حکومت نے کئی بار آپریشن کئے لیکن پھر یہ مشروم کی طرح اگنے والے بھکاری دکھائی دیتے۔

حرم کے اندر اور باہر جب جب کوئی پاکستانی مانگنے والا نظر آتا تو دل خون کے آنس و روتا۔لوگ کہتے ہیں مہنگائی ہے کیا کریں دوستو مہنگائی آج کا رونا نہیں ہے یہ پیشہ ور لوگ ان کے لئے اس سے آسان کوئی کام ہی نہیں ہے۔واسطہ ایسا دیں گے کہ دل پسیج جائے گا کسی جمپ پر کسی دکان پر آپ نے پیسے دینے کے لئے جیب میں ہاٹتھ ڈالا نہیں اللہ کا واسطہ نبی کا واسطہ بچوں کی زندگی کا واسطہ دیتے ہوئے یہ لوگ آپ کی جیب سے کچھ نہ کچھ نکال لیں گے

موضوع تو دوستوں نے بہت بتائے ہیں کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے کسی کو حکومت کی کوششیں چالاکیاں نظر آتی ہیں زرعی ملک میں زراعت سے جڑی ادویہ کی مہنگائی کا شکوہ ہے بس ہزاروں ہی شکوے کیا کیا سناؤں۔میں کالم لکھوں یا نہ لکھوں غم زندگی غم روزگا غم عاشقی میں کدھر کدھر سے نکل گیا۔

عمر کے اس حصے میں جب آپ کی اولاد بکھر چکی ہو کوئی کسی ملک کوئی کسی شہر تو دکھ تو بہت ہیں۔مجھے ان بچوں کا بھی ذکر کرنا ہے جو پردیس میں ریت پر لیٹے تیس ریال کے گدے پر چاند کی طرف دیکھ رہے ہیں اور کوئی پی آئی اے کے جہاز کو دیکھ کر روتا ہے چاند سے شکوے کرتے یہ پردیسی بچے ان کا بھی دکھ ہے کوئی ایک سال کے لئے گیا تو کوئی وہاں چالیس سال تک رہا کسی کا سال نہ پورا ہوا پینتیس سالا گزار کے بھی ابھی سال دو سال بقایا ہیں۔

بھکاری یقین کیجئے اس پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے حکومت نے اینٹی بیگرز کمیٹیاں بھی بنائی ہیں حکومت نے کیا کیا کچھ نہیں بنایا لیکن بیرو کریسی میں بیٹھے ان زمینی خداؤں نے قسم کھا رکھی ہے کہ نے اس حکومت کو نہیں چلنے دینا۔شکایات سیل بھی بنائے گئے لیکن ان سیلوں کے انچارج بھی شکائت کرتے ہمارے پاس رونے آئے کہ ہماری کون سنے گا۔یعنی جس حکیم نے دوا دینی ہے وہ خود ڈاکٹر مشتاق کی دکان پر لائین لگا ہوا یا ڈاکٹر ٹای والے سے ڈرپ لگوا رہا ہے۔

میں آج تزئین اختر کا کالم پڑھ رہا تھا یقین کیجئے میں ہونق سا ہو کر رہ گیا کہ کیا ہم وہی ہیں جو خواب دکھایا کرتے تھے۔ایک عمران خان کہاں کہاں جائے کس کس کو پکڑے۔کہتے ہیں ادارے مضبوط ہوں گے تو کام چلے گا ادارے تو مضبوط آپ نے کر ہی لئے پولیس کی حراست میں جہلم کا ایک چودھری مارا گیا وہ کچھ کم نہ تھا اس نے پارٹی کے ٹکٹ پر اس وقت الیکشن لڑا تھا جب اس علاقے کے بڑے بڑے کہیں اور اذانیں دیا کرتے تھے۔منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے یہ بھی تو ایک مسئلہ ہے ایک بار مجھے ایک شخص نے غصے میں کہا میں آپ کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کروں گا اور میں سر اٹھا کے نکل آیا اور سوچا یہ جب مشرف کے اقتتدار میں مزے لوٹ رہا تھا تو میں مشرف کے خلاف جدہ کی جیل میں دن کاٹ رہا تھا۔اس سے بڑھ کر اور کیا ستم ہو گا کہ ہم رو بھی نہیں سکتے۔قصہ ء درد کسے سنائیں ہر کارکن یہی کچھ کہہ رہا ہے۔مغل صاحب کا کہنا ہے حیرانگی ہے کہ آپ کے پاس موضوع نہیں حضور کہاں تک سن گے کہاں کہاں تک سناؤں ہزاروں ہی شکوے کیا کیا سناؤں۔آپ کے پاس دکھہیں درد ہیں میری جھولی میں بھی یہی کچھ ہے۔مجھے ان ماؤں کا بھی دکھ ہے کہ جن کے بچے پردیس میں رل گئے کوئی کرونا میں مر کر پاکستان پہنچے تو ماں کوٹھے کی چھت سے چیختی رہی کہ میرے بچے کو گھسیٹ کے نہ لے جاؤ سر موضوع بہت ہیں اور باتیں بھی بہت میرا اللہ مجھ پر کرم فرماتا ہے لفظ لکھوں تو زماہ میرے درشن مانگے لفظ بولوں تو زمانہ کہے بولو بول۔

مجھے اللہ نے بہت سی چیزوں سے نوازا ہے بہترین کالمسٹ کا ایوارڈ بھی ملا ضیاء شاہد نے کہا کمال لکھتے ہو عصر حاضر میں کرنٹ افیئرز پر تم سے بہتر کوئی نہیں۔میں افسانے نہیں لکھتا اور نہ فرمائیشی کالم لکھ کر زندہ و جاوید چوہدری بنتا۔مجھے وہ لفظ ملتے ہیں جو کتابوں میں نہیں اللہ کی جانب سے دل سیا ٹھتے ہیں

میں اس معاشرے میں پھیلے ہوئے دکھوں کا لکھاری ہوں۔کاش میں بس لکھتا ہی لکھتا لیکن مجھ میں خرابی یہ ہے کہ میں اکفاظ کا گنڈاسہ اٹھا کر سڑک پر نکلتا ہوں کبھی کوئی میرے نبی اکرم کی ختم نبوت پر کوئی انگلی اٹھائے تو ان بے حسوں اور بے غیرتوں پر قہر بن کے ٹوٹتا ہو سولنگی نے خوب کہا کہ آپ لڑ پڑتے ہو میرے ایک اور دوست کا بھی یہی خیال ہے لیکن یہ بات یاد رکھئے یہ دنیا ہم جیسوں کے احتجاج سے مصفی ہو رہی ہے چاپلوس اسمبلی تک تو جا سکتا ہے سینیٹر بن سکتا ہے دولت سمیٹ سکتا ہے لیکن میں لکھ کے دیتا ہوں جب نامہ ء اعمال کی تقسیم کی بات ہو گی تو بائیں ہاتھ میں لیئے دوزخ میں جا رہا ہو گا اس وقے سبز گنبد والے کی جانب سے آواز آئے گی کہ یہ میرا ہے یہ میرا ہے جس نے میرے خاکوں پر جب بات ہوئی تو اس نے اپنی پارٹی کے چیئرمین کو روک کر کہا تھا کہ سبز گنبد والے کے پاس جا رہے ہو وہاں این ۲۲۱ کے جعلی ووٹوں کی بات نہیں ہو گی۔اور وہ دن بھی یاد کریں جب میں نے کھڑے ہو کر کہا تھا کہ اندھی تقلید نہیں ہو گی۔کسی نے کہا تمہیں ٹکٹ نہیں ملے گا میں نے بھی جواب دے دیا تھا کہ ٹکٹ ملے نہ ملے رات سے نہ ہاروں گا میں دیکھ رہا ہوں لوگ دیہاڑیاں لگا رہے ہیں اور ٹھیک ٹھاک لگا رہے ہیں لیکن وقت کسی کا نہین ساتھ دیتا جو جیلیں آج نواز شریف اور زرداری کے لئے کھلی ہیں ان میں یہ بھی جائیں گے اسی لئے تو کہتا ہوں باز آ جاؤ۔میں ایک بار آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا قلم کسی ٹھگ اور چور کے لئے نہیں اٹھے گا اور میرا قلم کسی لٹیرے کا مداح بھی نہیں ہو گا۔یہ سب عہدے سب تعارف چھن بھی جائیں تو افتخار کا فخر اس کا قلم زندہ رہے گا۔میں نے ٹیلنٹ کا قتل ہوتے دیکھا ہے چوہے کالے لوگ اس پر سازشیں کرتے ہیں اور مال بناتے ہیں لیکن کبھی سورج بھی بادلوں سے شکست کھاتا ہے۔گجرانوالہ جہاں کل متحدہ ڈاکو موومنٹ جلسہ کرنے جا رہی ہے اسی کا تھانہ سٹی گواہی دے گا کہ میں کھڑا تھا ۴۷۹۱ کی ختم نبوت تحریک میں گرفتار ہوا تھا مجھے پیپلز پارٹی کے محلے کی تنظیم کے چاچا نور الہی اور اکرام شیخ چائے والے نے چھڑوایا تھا وہ تھی کارکن کی طاقت یہاں تو ہمارا ایم پی اے خشے چھوڑ دیتا ہے اس لئے کہ پولیس آزاد ہے اتنی آزاد کے چوہدری طاہر کی موت ہو جاتی ہے تو ایف آر نہیں کٹتی۔
مجھے موضوعات کی بہار سے واسطہ ہے۔میری سوچیں میرے قلم کی ہم رکاب ہیں بھیک مانگتے ہوئے ہاتھ قلم ہونے چاہئیں۔یہ معاشرہ ابھی زندہ ہے کرونا میں لوگوں نے اتنے دکھ بانٹے ہیں کہ اب کسی کو ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں ہے۔میں لکھ کے دیتا ہوں کہ پاکستان آج بھی سندر ہے آج بھی خوبصورت ہے وہ پاکستان جس کے بارے میں اکثر کہتا ہوں بذبان امجد پاکستان تخیل ہے جو من کی لہروں کے نیچے جذبات کی رنگیں سیپوں میں جل پریوں کے اشکوں کی طرح موتی کی شکل میں رہتا ہے حاجی عمران عزیز اللہ ملنگی حسیب سولنگی اور میرے دوستو میرے کالم پڑھنے والو آپ کی خیر.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں