Sajji

بلوچی کاک یا باٹی اور سجی. کھڈی کباب.. تحریر: جابر شاہ

بلوچستان کے کوہ سلیمان اور۔کوہلو بلوچستان میں گرم گول پتھروں پر آٹا لپیٹ کر انگاروں پر پکائی روٹی کو بلوچی میں کاک کہتے ہیں۔ یہ روٹی پکانے کی قدیم ترین شکل ہے۔ اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے مناسب سائز کے گول پتھروں کو انگاروں پر خوب گرم کیا جاتا ہے۔ پھر ان پر آٹا لپیٹ کر ہلکی انگاروں والے بھوبل کے اوپر رکھ دیا جاتا ہے۔ ہلکی آنچ سے یہ گولہ اندر تک اچھی طرح پک جاتا ہے۔ دعوتوں میں اس کے ساتھ کھڈی کباب بھی بنایا جاتا ہے جو سالم بکرے یا دنبے پر مصالحے لگا کر زمین میں ایک قبر نما گڑھا کھود کر اس کی تہہ میں دہکتے انگارے رکھے جاتے ہیں۔ پھر مصالحہ لگے بکرے کو اس گڑھے میں انگاروں سے زرا اوپر لوہے کی سلاخ کی مدد سے معلق کر دیا جاتا ہے۔ پھر اس گڑھے کو ٹین یا فولادی پترے سے ڈھک کر اس کے اوپر بھی دھکتے کوئلے رکھ دئے جاتے ہیں۔ اس کو تین چار گھنٹے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پک جانے پر یہ مسلم بکرا نکال کر ایک بڑی ٹرے یا تھال میں رکھا جاتا ہے۔ کھانے والوں کے سامنے مٹی کے کونڈے ہوتے ہیں جس میں وہ اس کھڈی کباب کا کچھ حصہ بکرے سے جدا کر کے ڈاتے ہیں اور ساتھ میں پتھر سے آٹے کی گلابی روٹی جدا کر کے اس گوشت کے ساتھ کھائ جاتی ہے۔ اس کھڈی کباب کا ذائقہ سجی جیسا ہوتا ہے۔

مشہور بزرگ حضرت خواجہ بختیار کاکی کے نام میں لفظ کاکی کی وجہ تسمیہ بھی یہی کاک ہے۔ سیر الاقطاب میں ہے کہ آپ جب دہلی میں تشریف لائے تو کوئی نذرانہ وغیرہ قبول نہیں فرماتےتھے۔ایک مسلمان دوکاندار شرف الدین نامی آپ کا ہمسایہ تھا اس سے قرض لیتےتھے۔ایک مرتبہ حضرت کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا،ایک دو دن کے فاقے بھی ہوچکے تھے۔ حضرت کی اہلیہ نے شرف الدین کی بیوی سے نصف ٹکہ قرض لیا۔ایک دن اس نے طعن آمیز لہجے میں کہا کہ اگر ہم تمہیں قرض نہ دیں تو تم بھوکے مرجاؤ۔یہ بات حضرت کی اہلیہ کو نا گوار گزری،اور دل ہی دل میں عہد کرلیا کہ آئندہ کسی سے قرض نہیں لوں گی، اور یہ بات حضرت کی خدمت میں بھی عرض کردی۔ حضرت نے فرمایا کہ جب تمہیں کھانے کی ضرورت ہواس طاق سے بسم اللہ پڑھ کر کاک(روٹی)نکال لیا کرو۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد جب بھی ضرورت ہوتی طاق سے کاک مل جایا کرتا۔تھا جب پڑوسی کی بیوی نے مزید قرض نہ مانگنے کی وجہ دریافت کی تو خواجہ صاحب کی اہلیہ نے اس کو سارا واقعہ بیان کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد سے کاک ملنا موقوف ہوگئے لیکن خواجہ صاحب اس کی وجہ سے بختیار کاکی مشہور ہوگئے۔ ہمارے قبائلی بلوچ خواہ پشتون لوگ ایسے کھانے بنانے کے ماہر ہوتے ہیں اور بڑے شوق سے کھاتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں